ابنا: صدر احمدي نژاد کا کہنا تھا کہ امريکہ اور مغربي طاقتيں علاقے کي تبديليوں سے اسرائيل کو بچانے کي کوشش کر رہي ہيں۔صدر نے يہ بات زور ديکر کہي کہ مغربي طاقتيں اس مقصد کے حصول کے لئے علاقے ميں نسلي لساني اور قبائيلي اختلافات پھيلانا چاہتي ہيں جسکے مقابلے کے لئے ہميں پوري طرح ہشيار رہنا ہوگا۔ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ مغربي طاقتوں کو خطے ميں شيعہ اور سني جنگ چھيڑنے کي ہرگز اجازت نہ دي جائے۔صدر نے کہا کہ ہميں خطے کي صورتحال پر خاموش تماشائي نہيں بننا چاہيے بلکہ ہميں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔قبل ازيں طلبا تنظيموں کے نمائندوں نے حکومت کي کارکردگي کے بارے ميں اپنے خيالات بيان کئے۔
.......
/169